| فیضانِ زکاۃ |
محتاج ہو یا کوئی نیک متقی شخص ہو یا وہاں بھیجنے میں مسلمانوں کا زیادہ فائدہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔درمختا ر میں ہے :''زکوٰۃ کو دوسری جگہ منتقل کرنا مکروہ ہے ،ہاں ایسی صورت میں مکروہ نہیں جب دوسری جگہ کوئی رشتہ دار ہو یا کوئی زیادہ محتاج ہو یا نیک متقی شخص ہو یا اس میں مسلمانوں کا زیادہ فائدہ ہو یا سال سے پہلے جلدی زکوٰۃ دینا چاہتا ہو۔''
(ماخوذاز الدرالمختارو در المحتار ، کتاب الزکوٰۃ ، باب المصرف مطلب فی الحوائج ج۳،ص۲۵۵)
بینک سے زکوٰۃ کی کٹوتی
بینک سے زکوٰۃ کی کٹوتی کی صورت میں ادائیگی زکوٰۃ کی شرائط پوری نہیں ہوپاتیں مثلاً مالک بنانا ،کہ زیادہ روپیہ ایسی جگہ خرچ کیا جاتا ہے جہاں کوئی مالک نہیں ہوتا،لہٰذا زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔(وقار الفتاویٰ ،ج۲،ص۴۱۴ ملخصاً) لہٰذا شرعی احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اپنی زکوٰۃ شریعت کے مطابق خُود ادا کی جائے۔
حیلہ شرعی
امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتاب ''اسلامی بہنوں کی نماز '' صفحہ 166پر لکھتے ہیں: حيلہ شَرعی کا جواز قرآن و حديث اورفِقہِ حنفی کی مُعتَبر کُتُب ميں موجود ہے۔ چنانچہِ حضرتِ سيدنا ايوب عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی بيماری کے زمانے ميں آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ايک بار خدمتِ سراپا عظمت ميں تاخير سے حاضِر ہوئيں تو آپ علیہ الصلٰوۃ السلام نے قسم کھائی کہ ''ميں تندرست ہو کر 100 کوڑے ماروں گا'' صِحت ياب ہونے پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہيں100 تِيليوں کی جھاڑو مارنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ چُنانچہِ قرآنِ پاک ميں ہے :