Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
88 - 149
نہیں، یا اس شرط پر زکوٰۃ دیتا ہوں کہ فلاں کام مثلاً تعمیر مسجد یا مدرسہ میں صرف کرو تو لینے والے پر اس شرط کی پابندی ضروری نہیں زکوٰۃ ادا ہوجائے گی کیونکہ زکوٰۃ ایک صدقہ ہے اور صدقہ شرطِ فاسد سے فاسد نہیں ہوتا ۔
 (ماخوذ از الدرالمختارو در المحتار ، کتاب الزکوٰۃ ، باب المصرف،ص۳،ص۳۴۳)
زکوٰۃ کی رقم تجارت میں لگاکر اس کا نفع غریبوں میں تقسیم کرنا کیسا؟
    اگر سال پورا ہو چکا ہے تو زکوٰۃ کی رقم اس کے مستحق کو دینے کی بجائے تجارت میں لگانا حرام ہے ۔ ہاں اگر کوئی سال پورا ہونے سے پہلے اس نیت کے ساتھ اپنی زکوٰۃ کی رقم کاروبار میں لگائے کہ سال تمام ہونے پر یہ رقم اس کے منافع سمیت فقراء کو دے دوں گا تو یہ نیت بہت اچھی ہے ۔
 (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجہ ،ج۱۰، ص۱۵۹ملخصاً)
مالِ زکوٰۃ سے وقف
     مال ِ زکوٰۃ سے کوئی چیز خرید کر وقف نہیں کی جاسکتی اس لئے کہ مال ِ زکوٰۃ سے وقف ممکن نہیں کیونکہ وقف کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اور زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے مالک بنانا شرط ہے ۔ اس کی تدبیر، یوں کی جاسکتی ہے کہ کسی مصرف زکوٰۃ کو زکوٰۃ دیں پھر وہ اپنی طرف سے کتابیں وغیرہ خرید کر وقف کردے ۔
 (فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجہ ،ج۱۰، ص۲۵۵)
زکوٰۃ شہر سے باہر لے جانا
    اگر زکوٰۃ پیشگی ادا کرنی ہوتو دوسرے شہر بھیجنا مطلقاً جائز ہے اور اگر سال پورا ہوچکا ہے تو دوسرے شہر بھیجنا مکروہ ،ہاں اگر وہاں کو ئی رشتہ دارہو یاکوئی شخص زیادہ
Flag Counter