| فیضانِ زکاۃ |
جس پرزکوٰۃواجب ہواسی کے مال سے زکوٰۃدینا ضروری نہیں کوئی دوسرا بھی اس کی اجازت سے زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے۔(ماخوذا ز فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ ، ج۱۰،ص ۱۳۹) مثلاً بیوی پر زکوٰۃ ہو تواس کی اجازت سے شوہر اپنے مال سے ادا کرسکتا ہے ۔
بلااجازت کسی کے مال سے اس کی زکوٰۃ دینا
کسی کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے پیشگی زکوٰۃدیتا رہا پھر اسے خبر کی اور اس نے جائز رکھا تو بھی زکوٰۃادا نہیں ہوگی اور جو کچھ مالک کی اجازت کے بغیر فقراء کو دیا ہے اس کا تاوان ادا کرے ۔ فتاویٰ شامی میں ہے :''اگر کسی نے دوسرے کی اجازت کے بغیر زکوٰۃ ادا کردی پھر دوسرے تک خبر پہنچی اور اس نے جائز بھی رکھا تب بھی زکوٰۃادا نہ ہوگی ۔''
(ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ ،مطلب فی زکوٰۃ ...الخ،ج۳،ص۲۲۳ )
زکوٰۃ دئیے بغیر انتقال کرجانے والے کا حکم
جس شخص پر زکوٰۃ واجب ہے اگر وہ مر گیا تو ساقط ہوگئی یعنی اس کے مال سے زکوٰۃدینا ضروری نہیں، ہاں اگر وصیّت کر گیا تو تہائی مال(یعنی کل مال کے تیسرے حصے ) تک وصیّت نافذ ہے اور اگر عاقل بالغ ورثہ اجازت دے دیں تو کُل مال سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔
(بہارِ شریعت ،ج۱حصہ۵،مسئلہ نمبر ۸۴،ص۸۹۲)
مشروط طور پرزکوٰۃ دینا
اگر زکوٰۃ دیتے وقت کوئی شرط لگا دی مثلاً یہاں رہوگے تو دیتا ہوں ورنہ