Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
86 - 149
پیشگی حساب کا طریقہ
    جوصاحبِ نصاب اسلامی بھائی یا اسلامی بہنیں تھوڑی تھوڑی کر کے پیشگی زکوٰۃ دینا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے پاس موجودکل مالِ زکوٰۃ (سوناچاندی،کرنسی نوٹ ،مالِ تجارت وغیرہ) کا اندازاً حساب لگالیں پھر کل مالِ زکوٰۃ کی قیمت کا 2.5% بطورِ زکوٰۃ الگ الگ کر لیں ۔ پھر اگر وہ ماہانہ کے حساب سے دینا چاہیں تو زکوٰۃ کی رقم کو 12پر تقسیم کرلیں اور اگر ہفتہ وار دینا چاہیں تو 48پر اور اگر روزانہ دینا چاہیں تو 360پر تقسیم کر لیں ۔ پھر جب سال تمام ہو تو زکوٰۃ کا مکمل حساب کر لیں اور جو کمی ہواُسے پورا کریں ۔
پیشگی زکوٰۃزیادہ دے دی تو کیا کرے؟
    اگرپیشگی زکوٰۃ زیادہ چلی گئی تو اسے آئندہ سال کی زکوٰۃ میں شامل کر لے ۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الاول، ج۱، ص۱۷۶)
جسے پیشگی زکوٰۃدی تھی بعد میں وہ مالدار ہوگیاتو؟
    جس فقیر کو پیشگی زکوٰۃدی تھی وہ سال کے اختتام پر مالدار ہوگیا یا مر گیا یامرتد ہوگیا تو زکوٰۃ ادا ہوگئی ۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الاول، ج۱، ص۱۷۶)
اختتامِ سال پر نصاب باقی نہ رہا تو؟
    ایسی صورت میں جو کچھ دیا، نفلی صدقہ میں شمار ہوگا ۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الاول، ج۱، ص۱۷۶)
Flag Counter