| فیضانِ زکاۃ |
اگر دینے والوں نے مطلقاً اجازت دی ہو کہ جس مصرفِ زکوٰۃ میں چاہو صرف کرو تو جس میں چاہے صرف کرے اور اگر دینے والوں نے کسی معیَّن مصرف میں خرچ کرنے کا کہا ہوتو وہیں صرف کرنا پڑے گا ۔فتاوی شامی میں ہے :''جب زکوٰۃ دینے والے نے یہ کہا ہو کہ فلاں پر زکوٰۃ کی رقم صرف کرو تو وکیل کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور پر زکوٰۃ کی رقم صرف کرے ۔''(المرجع السابق)
کیا وکیل خود زکوٰۃ رکھ سکتا ہے؟
جب دینے والوں نے مطلقاً اجازت دی ہو کہ جہاں چاہو صرف کرو تو مستحق ِ زکوٰۃ ہونے کی صورت میں وکیل خود زکوٰۃ رکھ سکتا ہے ورنہ نہیں۔در مختار میں ہے :''وکیل کو جائز ہے کہ اپنے فقیر بیٹے یا بیوی کو زکوٰۃ دے دے مگر خود نہیں لے سکتا ، ہاں!اگر دینے والے نے یہ کہا ہو کہ جہاں چاہو مصرف ِ زکوٰۃ میں صرف کرو تو اپنے لئے بھی جائز ہے جبکہ فقیر ہو۔''
(الدر المختار،کتاب الزکوٰۃ،ج۳،ص۲۲۴)
زکوٰۃ پیشگی ادا کرنا
پیشگی زکوٰۃدے سکتے ہیں لیکن اس کے لئے2شرائط ہیں۔
(۱)دینے والا مالک ِ نصاب ہو ،(۲)اختتامِ سال پر نصاب مکمل ہو ۔
اگر دونوں میں سے ایک بھی شرط کم ہوگی تو دیا جانے والا مال نفلی صدقہ شمار ہوگا ۔(الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الاول، ج۱، ص۱۷۶)