Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
84 - 149
دو،تو بھی وکالت درست ہے۔ لیکن بتادینا بہتر ہے تاکہ وہ ادائیگی کی شرائط کا خیال رکھ سکے ۔
 (ماخوذ ازردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ ،مطلب فی زکوٰۃ ...الخ،ج۳،ص۲۲۳ )
کیا وکیل بھی زکوٰۃ کی نیت کرے؟
    اگر وکیل کو مالک (یعنی مؤکل )نے زکوٰۃ ادا کرنے کی نیت سے مال دیا تو وکیل کو دوبارہ نیت کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ اصل یعنی مالک کی نیت موجود ہے ۔
 (الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ ،مطلب فی زکوٰۃ ...الخ،ج۳،ص۲۲۲ ملخصاً)
نفلی صدقہ کے لئے وکیل بنانے کے بعد زکوٰۃ کی نیت کرنا
    وکیل کو دیتے وقت کہا نفل صدقہ یا کفارہ ہے مگر اس سے پہلے کہ وکیل فقیروں کو دے، اُس نے زکوٰۃ کی نیّت کر لی تو زکوٰۃہی ہے، اگرچہ وکیل نے نفل یا کفارہ کی نیّت سے فقیر کو دیا ہو۔
 (الدرالمختار وردالمحتار، کتاب الزکاۃ، مطلب في زکاۃ ثمن المبیع وفائ، ج۳، ص۲۲۳)
مختلف لوگوں کی زکوٰۃ ملانا
     اگر دینے والوں نے ملانے کی صراحۃً اِجازت دی تھی یا اس پر عرف جاری ہو اورمؤکل اس عرف سے واقف ہو تووکیل مختلف لوگوں کی زکوٰۃ کو آپس میں ملاسکتا ہے ورنہ نہیں ۔
 (الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ ،مطلب فی زکوٰۃ ...الخ،ج۳،ص۲۲۳ ملخصاً)
وکیل کا کسی کو وکیل بنانا
     وکیل مزید کسی کو وکیل بناسکتاہے۔(المرجع السابق،ص۲۲۴)
Flag Counter