(ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ ،مطلب فی زکوٰۃ ...الخ،ج۳،ص۲۲۸ )
اگر لاعلمی کی بنا پر زکوٰۃ کم ادا کی تو جتنی زکوٰۃ دی وہ ادا ہوگئی کیونکہ ادائے زکوٰۃ میں نیت ضرور شرط ہے لیکن مقدارِ زکوٰۃ کا صحیح معلوم ہونا شرط نہیں ۔مگرایسا شخص گنہگار ہوگاکیونکہ زکوٰۃکی ادائیگی میں تاخیر گناہ ہے ،ایسے شخص کو چاہے کہ توبہ کرے اور حساب لگا کر بقیہ زکوٰۃ ادا کرے ۔(فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجہ ،ج۱۰، ص۱۲۶)
زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے وکیل بنانا
زکوٰۃکی ادائیگی کے لیے کسی کووکیل بنانا جائز ہے ۔
(ماخوذ ازردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ ،مطلب فی زکوٰۃ ...الخ،ج۳،ص۲۲۴ )
وکیل کو زکوٰۃ کا علم ہونا
وکیل کو زکوٰۃ کے بارے میں بتاناضروری نہیں، اگر دل میں زکوٰۃ کی نیت ہے اور وکیل کو کہا کہ یہ نفلی صدقہ وخیرات ہے یا عیدی ہے یا قرض ہے فلاں کو دے