زکوٰۃ کی رقم سے اناج خرید کردینا
اگر کھانا پکا کر یا اناج خرید کر غریبوں میں تقسیم کیا اوردیتے وقت انہیں مالک بنا دیا تو زکوٰۃادا ہوجائے گی مگر کھانا پکانے پر آنے والا خرچ شامل ِ زکوٰۃ نہیں ہوگا بلکہ پکے ہوئے کھانے کے بازاری دام (یعنی قیمت) زکوٰۃ میں شمار ہوں گے اور اگر محض دعوت کے انداز میں بٹھا کر کھلا دیا تو مالک نہ بنانے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔(ماخوذازفتاویٰ رضویہ مُخَرَّجہ ،ج۱۰، ص۲۶۲)
محتاجوں کو کم قیمت میں اناج بیچ کر زکوٰۃ کی نیت کرنا کیسا؟
اگر اناج خرید کرمستحقین زکوٰۃ کو کم قیمت میں بیچیں اور جتنی رقم کم کی گئی اسے زکوٰۃ میں شمار کریں تو ایسی صورت میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی کیونکہ یہ صورت رعائت کی ہے ،مالک بنانا نہیں پایا گیا ۔ اس کے بجائے عاقل وبالغ مستحقین زکوٰۃ کو اناج اصل قیمت مثلاً 50 روپے کلو ہی بیچا جائے اور جتنی رعائت مقصود ہومثلاً پانچ