Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
141 - 149
    (۳)حضرت سیدنا عایذ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ سوال کرنے میں کیا ہے تو کوئی کسی کے پاس سوال لے کر نہ جاتا ۔''
 (سنن نسائی،کتاب الزکوٰۃ،باب المسأ لۃج۵،ص۹۵)
    (۴)حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:''جو مال بڑھانے کے لئے سوال کرتا ہے وہ انگارے کا سوال کرتا ہے تو چاہے زیادہ مانگے یا کم کا سوال کرے ۔''
 (صحیح مسلم ،کتاب الزکوٰۃ،باب کراہیۃالمسا لۃ للناس ،الحدیث،۱۰۴۰،ص۵۱۸)
    (۵)حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:جس پر نہ فاقہ گزرا نہ اتنے بال بچے ہیں جن کی طاقت نہیں رکھتا اور سوال کا دروازہ کھو لے،اللہ عزوجل اس پر فاقہ کا دروازہ کھول دے گا ایسی جگہ سے جو اس کے خیال میں بھی نہیں۔
 (شعب الایمان ،با ب فی الزکوٰۃ،فصل فی الاستعفاف عن المسألۃ،الحدیث ۳۵۲۶، ج۳، ص۲۷۴)
    (۶)حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:''اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ،اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا مانگنے والا۔''
(صحیح مسلم ،کتاب الزکوٰۃ،باب بیان ان الید العلیا...الخ،الحدیث،۱۰۳۳،ص۵۱۵)
Flag Counter