Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
140 - 149
سوال کرنے کا وبال
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل سوال کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی جاتی ۔اچھے خاصے تندرست لوگ بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں جو کما کر خود بھی کھا سکتے ہیں اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلا سکتے ہیں ۔یاد رکھئے بلااجازتِ شرعی سوال کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
(فتاوٰی رضویہ مُخَرّجَہ ،ج۱۰ ،ص۲۵۳)
''مُمَانَعَت ''کے چھ حُرُوف کی نسبت سے سوال کرنے کی مذمت کے بارے میں مدنی آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم کے6فرامین
    (۱)حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم نے فرمایا:''تم میں سے کوئی شخص سوال کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کریگا کہ اس کے جسم پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہوگا۔''
 (صحیح مسلم ،کتاب الزکوٰۃ،باب کراہیۃالمسا لۃ للناس ،الحدیث،۱۰۴۰،ص۵۱۸)
    (۲)حضرت سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:''سوال ایک قسم کی خراش ہے کہ آدمی سوال کر کے اپنے منہ کو نوچتا ہے ، جو چاہے اپنے منہ پر اس خراش کو باقی رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے ۔''
 (سنن ابی داؤد،کتاب الزکوٰۃ،باب ما تجوز فیہ المسأ لۃ،الحدیث۱۶۳۹،ج۲،ص۱۶۸)
Flag Counter