| فیضانِ زکاۃ |
سوال:اگر کوئی عشر واجب ہو نے کے باوجود ادا نہ کرے تو کیا کرنا چاہے؟ جواب:جوخوشی سے عشرنہ دے تو بادشاہ اسلام جبراً (یعنی زبردستی)اس سے عشر لے سکتا ہے اور اس صورت میں بھی عشر ادا ہو جائے گا مگر ثواب کا مستحق نہیں اور خو شی سے ادا کرے تو ثواب کا مستحق ہے۔''
(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ ،الباب السادس فی زکوۃ الزرع والثمار،ج۱،ص۱۸۵)
مدینہ :یاد رہے کہ زبردستی عشر وصول کرنا بادشاہ ِ اسلام ہی کا کام ہے عام لوگوں کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے ۔ ایسی صورتِ حال میں اسے عشر اداکرنے کی ترغیب دی جائے اور رب تعالیٰ کی ناراضگی کا احساس دلایا جائے ۔ ایسے لوگوں کو رسالہ''عُشر کے احکام'' یا یہ کتاب''فیضانِ زکوٰۃ'' پڑھنے کے لئے تحفۃً پیش کرنا بھی بے حد مفید ہوگا ،ان شاء اللہ عزوجل ۔
عشرادا کرنے سے پہلے پیداوار کا استعمال
سوال:کیاعشر اد اکر نے سے پہلے پیداوار استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب:جب تک عشر ادا نہ کر دے یا پیداوار سے عشر الگ نہ کر لے ،اس وقت تک پیداوار میں سے کچھ بھی استعمال کرنا جائز نہیں اور اگر استعمال کر لیا تو اس میں جو عشر کی مقدار بنتی ہے اتنا تاوان ادا کرے البتہ تھوڑا سا استعمال کر لیا تو معاف ہے ۔
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الزکاۃ،مطلب مھم فی حکم اراضی مصر الخ،ج۳،ص۳۲۱،۳۲۲)
عشر دینے سے پہلے فوت ہوگیا تو؟
سوال:جس پر عشر واجب ہو اوروہ فوت ہو جائے اور پیداوار بھی موجود ہے تو کیااس میں سے عشر دیا جائے گا؟