Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
129 - 149
ہیں)،کھجورکے پتے وغیرہ،ان کے علاوہ ہر قسم کی ترکاریوں اور پھلوں کے بیج کہ ان کی کھیتی سے ترکاریاں مقصود ہو تی ہیں بیج مقصود نہیں ہوتے اورجو بیج دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں مثلاًکندر ، میتھی اورکلونجی وغیرہ کے بیج،ان میں بھی عشر نہیں ہے۔ اسی طرح وہ چیزیں جو زمین کے تا بع ہوں جیسے درخت اور جو چیزدرخت سے نکلے جیسے گوند 'اس میں عشر واجب نہیں ۔

البتہ اگرگھاس ،بید ،جھاؤ(وہ پودا جس سے ٹوکریاں بنائی جاتی ہیں)وغیرہ سے زمین کے منافع حاصل کرنا مقصود ہو اور زمین ان کے لئے خالی چھوڑ دی تو ان میں بھی عشر واجب ہے۔کپاس اور بینگن کے پودوں میں عشر نہیں مگران سے حاصل کپاس اور بینگن کی پیداوار میں عشر ہے ۔
(در مختار،کتاب الزکوٰۃ ، باب العشر،ج۳، ص۳۱۵،الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ،الباب السادس فی زکوۃ زرع،ج۱،ص۱۸۶ )
عشر واجب ہو نے کے لئے کم ازکم مقدار
سوال:عشر واجب ہو نے کے لئے غلہ ،پھل اورسبزیوں کی کم ازکم کتنی مقدار ہوناضروری ہے ؟

جواب:عشر واجب ہو نے کے لئے ان کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے بلکہ زمین سے غلہ ،پھل اورسبزیوں کی جتنی پیداوار بھی حاصل ہو اس پر عشر یا نصف عشر دینا واجب ہو گا۔(الفتاویٰ الھندیۃ، المرجع السابق)
         پاگل اورنابا لغ پر عشر
سوال:اگر ان کی پیداوار کا مالک پاگل اورنابالغ ہوتو اس کو بھی عشر دینا ہوگا؟
Flag Counter