| فیضانِ زکاۃ |
نبی کریم ،رء وف رحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''ہر اس شئے میں جسے زمین نے نکالا،(اس میں )عشر یا نصف عشر ہے۔''
(کنزالعمال،کتاب الزکوۃ،باب زکوۃ النبات والفوا کہ ، الحد یث ۳ ۷ ۸ ۵ ۱ ، ج ۶ ، ص ۰ ۴ ۱ )
حضرتِ سیدنا جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم ،نورِ ِمجسّم،شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''جن زمینوں کو دریا اور بارش سیراب کرے ان میں عشر(دسواں حصہ دینا واجب) ہے اور جوزمینیں اونٹ کے ذریعے سیراب کی جائیں ان میں نصف عشر (بیسواں حصہ واجب)ہے۔''
(صحیح مسلم،کتاب الزکوۃ،باب مافیہ العشر اونصف عشر،الحدیث۹۸۱،ص۴۸۸ )
سوال: نصف عشر سے کیا مرادہے؟ جواب:نصف عشر سے مراد بیسواں حصہ20/1ہے۔(بہار شریعت ،ج۱حصہ۵،ص۹۱۶)
شہد کی پیداوار پرعشر
سوال:عشری زمین میں جو شہد پیدا ہو کیا اس پربھی عشر دینا پڑے گا؟ جواب:جی ہاں۔
(الفتاوی الھندیہ،کتاب الزکاۃ،الباب السادس ،ج ۱ ص ۱۸۶ )
کس پیداوار پر عشرواجب نہیں؟
سوال:کن فصلوں پر عشر واجب نہیں ؟ جواب: جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کا نفع حاصل کرنا مقصود نہ ہوان میں عشر نہیں جیسے ایندھن ،گھاس،بید،سرکنڈا،،جھاؤ(وہ پودا جس سے ٹوکریاں بنائی جاتی