Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
130 - 149
جواب:عشر چونکہ زمین کی پیداوار پر ادا کیا جاتاہے لہذا جو بھی اس پیداوار کا مالک ہوگا وہ عشر ادا کریگا چاہے وہ مجنون (یعنی پاگل)اور نابالغ ہی کیوں نہ ہو۔
(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ،الباب السادس فی زکوۃ زرع،ج۱،ص۱۸۵ ،ملخصاً)
قرض دار پر عشر
سوال:کیا قرض دارکو عشر معاف ہے ؟

جواب: قرض دار سے عشر معاف نہیں،اس لئے اگرقرض لے کر زمین خریدی ہو یاکاشت کا رپہلے سے مقروض ہویاقرض لے کر کاشت کاری کی ہوان سب صورتوں میں قرض دار پر بھی عشر واجب ہے۔''
(الدرالمختار وردالمحتار،کتاب الزکوۃ،باب العشر،ج۳،ص۳۱۴)
     علامہ عالم بن علاء الانصاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ''زکوۃ کے برخلاف عشر مقروض پر بھی واجب ہوتا ہے۔ ''
(فتاوی تاتار خانیہ،کتاب العشر، ج۲،ص۳۳۰)
شرعی فقیر پر عشر
سوال:کیا شرعی فقیر پر بھی عشر واجب ہوگا؟ 

جواب:جی ہاں ،شرعی فقیر پر بھی عشرواجب ہے کیونکہ عشر واجب ہونے کا سبب زمین ِنامی (یعنی قابل ِ کاشت)سے حقیقتاًپیداوار کا ہونا ہے،اس میں مالک کے غنی یا فقیر ہونے کا کوئی اعتبار نہیں۔
(ماخوذ من العنایۃ والکفایۃ،کتاب الزکوۃ،باب زکاۃالزروع، ج۲ص۱۸۸)
Flag Counter