Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
127 - 149
جواب:جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کا نفع حاصل کرنا مقصود ہو خواہ وہ غلہ ،اناج اورپھل فروٹ ہوں یاسبزیاں وغیرہ مثلاً اناج اورغلہ میں گندم ،جو ، چاول ،گنا ، کپاس،جوار،دھان(چاول)،باجرہ، مونگ پھلی ،مکئی، اورسورج مکھی، رائی،سرسوں اورلوسن وغیرہ ۔

پھلوں میں خربوزہ،آم،امرود،مالٹا،لوکاٹ،سیب،چیکو،انار، ناشپاتی، جاپانی پھل،سنگ ترا، پپیتا ،ناریل، تربوز،فالسہ، جامن، لیچی،لیموں، خوبانی ، آڑو،کھجور ، آلوبخارا ،گرما، انناس، انگور ا و ر آلوچہ وغیرہ ۔

سبزیوں میں ککڑی،ٹینڈا،کریلا،بھنڈی توری،آلو ،ٹماٹر ، گھیا توری ،سبزمرچ، شملہ مرچ، پودینا ، کھیرا، ککڑی(تر)اور اروی ، توریا ،پھول گوبھی ،بندگوبھی ، شلغم، گاجر، چقندر،مٹر، پیاز،لہسن، ،پالک،دھنیااورمختلف قسم کے ساگ اورمیتھی اور بینگن وغیرہ۔ ان سب کی پیداوار میں سے عشر( یعنی دسواں حصہ) یا نصف عشر( یعنی بیسواں حصہ)واجب ہے۔(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ،الباب السادس،ج۱،ص۱۸۶)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں فرمایا:
وَاٰتُوۡا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ
ترجمہ کنزالایمان:اور اس کا حق دوجس دن کٹے ۔(پ۸،الانعام :۱۴۲)

    امامِ اہلِسنّت مجددِ دین وملت ،پروانہ شمع رسالت ،الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ اللہ الرحمن لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین مثلاًحضرت ابن ِعباس ،طاؤس ،حسن ،جابر بن زید اورسعید بن المسیّب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نزدیک اس حق سے مراد عشر ہے ۔(فتاوی رضویہ مُخَرّجَہ،کتاب الزکوۃ،ج۱۰،ص۶۵)
Flag Counter