Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
125 - 149
لولاک ، سیّاحِ افلا ک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''جس نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دی، بے شک اللہ تعالیٰ نے اس سے شر دور فرما دیا۔''
        (المعجم الاوسط،باب الالف،الحدیث۱۵۷۹،ج۱،ص۴۳۱)
عشرادا نہ کرنے کا وبال

سوال:عشر ادا نہ کرنے کا کیا وبال ہے ؟

جواب:عشر ادا نہ کرنے والے کے لئے قرآن پاک واحادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَلَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ یَبْخَلُوۡنَ بِمَاۤ اٰتٰىہُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیۡرًا لَّہُمْ ؕ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ ؕ سَیُطَوَّقُوۡنَ مَا بَخِلُوۡا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:اورجو بخل کرتے ہیں اس چیزمیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ،ہر گزاسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا۔ (پ۴، اٰل عمران:۱۸۰ )

    حضرتِ سیدناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مکی مدنی سرکار ، دو عالم کے مالک و مختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''جس کو اللہ عزوجل مال دے اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا جس کے سر پر دو چتیا ں ہوں گی(یعنی دو نشان ہوں گے) ،وہ سانپ ا س کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ،پھر اس (زکوۃ نہ دینے والے ) کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا :میں تیرا مال
Flag Counter