Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
124 - 149
مَثَلُ الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنۡۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیۡ کُلِّ سُنۡۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگاہیں
وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۶۱﴾اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوَالَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوۡنَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًی ۙ لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ ﴿۲۶۲﴾
سات بالیں ۔ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے وہ جواپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ،پھر دئیے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ(انعام) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہونہ کچھ غم۔(پ۳،البقرۃ:۲۶۱،۲۶۲)

    سرورِ عالم ، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی ترغیب ِ امت کے لئے کئی مقامات پر راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنے کے کئی فضائل بیان کئے ہیں : چنانچہ

    حضرت سیدناحسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''زکوۃ دے کر اپنے مالوں کو مضبو ط قلعوں میں کر لو اور اپنے بیمارو ں کا علا ج صدقہ سے کرو اور بلا نازل ہو نے پر دعا و تضرع (یعنی گریہ و زاری)سے اِستعانت (یعنی مدد طلب )کرو ۔''
(مراسیل ابی داؤد مع سنن ابی داؤد ،باب فی الصائم،ص۸)
    اور حضرتِ سیدنا جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صاحبِ
Flag Counter