| فیضانِ زکاۃ |
سوال :عشر کسے کہتے ہیں ؟ جواب:زمین سے نفع حاصل کرنے کی غرض سے اُگائی جانے والی شے کی پیداوار پر جو زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے اسے عشر کہتے ہیں ۔
(الفتاوی الھندیہ ،کتاب الزکوۃ،الباب السادس،ج۱،ص۱۸۵،ملخصاً)
سوال: زمین کی زکوٰۃ کو عشر کیوں کہتے ہیں ؟ جواب: زمین کی پیداوار کا عموماً دسواں( 10/1)حصہ بطورِ زکوٰۃ دیا جاتا ہے اس لئے اسے عشر (یعنی دسواں حصہ)کہتے ہیں ۔
عشر کے فضائل
سوال:عشر دینے کی کیافضیلت ہے ؟ جواب:عشر کی ادائیگی کرنے والوں کوانعاماتِ آخرت کی بشارت ہے جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَنۡفَقْتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۳۹﴾
تر جمہ کنزالایمان:اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ۔(پ۲۲،سبا :۳۹) سورہ بقرہ میں ہے :