| فیضانِ زکاۃ |
صدقہ فطرکے مصَا رِف وُہی ہیں جو زکوٰۃ کے ہیں۔(عالمگیری ج۱ ص۱۹۴) یعنی جِن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اِنہیں فِطْرہ بھی دے سکتے ہیں اور جن کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اُن کو فِطْرہبھی نہیں دے سکتے۔ لہٰذا زکوٰۃ کی طرح صدقہ فطر کی رقم بھی حیلہ شرعی کے بعد مدارس وجامعات اور دیگر دینی کاموں میں استعمال کی جاسکتی ہے۔
(فتاوٰی امجدیہ ج۱ص۳۷۶ملخصًا)
کسے صدقہ فطر نہیں دے سکتے؟
جنہیں زکوٰۃنہیں دے سکتے انہیں صدقہ فطر بھی نہیں دے سکتے ۔چنانچہ ساداتِ کرام کو صدقہ فطر بھی نہیں دے سکتے۔
(الدر المختارو رد المحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،ج۳،ص۳۷۹ )
ایک شخص کا فطرہ ایک ہی مسکین کو دینا
بہتر یہ ہے کہ ایک ہی مسکین یا فقیر کو فطرہ دیا جائے اگر ایک شخص کا فطرہ مختلف مساکین کو دے دیا تب بھی جائز ہے اسی طرح ایک ہی مسکین کومختلف اشخاص کا فطرہ بھی دے سکتے ہیں۔
(الدر المختارو رد المحتار،کتاب الزکوٰۃ،باب صدقۃ الفطر،مطلب فی مقدارالفطرج۳،ص۳۷۷ ملخصاً)