Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
111 - 149
صدقہ فطر ۱؎
    بعد ِ رمضان نمازِ عید کی ادائیگی سے قبل دیا جانے والا صدقہ  واجبہ ،صدقہ فطر کہلاتا ہے ۔ خلیلِ ملّت حضرت علامہ مفتی محمد خلیل خان برکاتی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیںـ: '' صدقہ فطردراصل رمضان المبارک کے روزوں کا صدقہ ہے تاکہ لغو اور بے ہودہ کاموں سے روزے کی طہارت ہو جائے اور ساتھ ہی غریبوں، ناداروں کی عید کا سامان بھی اور روزوں سے حاصل ہونے والی نعمتوں کا شکریہ بھی۔''
 (ہمارا اسلام،حصہ۷،ص۸۷)
''حُسَین''کے چار حُرُوف کی نسبت سے صدقہ فطر کی فضلیت کی 4روایات
    (1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے اس آیت کریمہ کے بارے میں سوال کیا گیا
قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی ﴿ۙ۱۴﴾وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی ﴿ؕ۱۵﴾
ترجمہ کنزالایمان :بے شک مراد کو پہنچا جوستھرا ہوا اور اپنے رب کا نام لے کرنماز پڑھی۔(پ۳۰،الاعلٰی:۱۴،۱۵)

تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :''یہ آیت صدقہ فطر کے بارے میں نازل ہوئی۔''
( صحیح ابن خزیمہ،الحدیث ۳۹۷ ،ج ۴، ص ۹۰)
    (2) سرکارِمدینہ منوّرہ،سردارِمکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ بَرَکت نشان ہےـ: ''جو تمہارے مالدار ہیں اللہ تعالیٰ (صدقہ فطردینے کی وجہ سے)
Flag Counter