Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
112 - 149
انہیں پاک فرما دے گا اور جو تمہارے غریب ہیں تواللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں اس سے بھی زیادہ دے گا۔ ''
 (سنن ابی داود،کتاب الزکوٰۃ ،باب روی من ضاع من قمح،الحدیث۱۶۱۹،ج۲،ص۱۶۱)
    (3) حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، کہ'' صدقہ فطر ادا کرنے میں تین فضلتیں ہیں؛ پہلی روزے کا قبول ہونا، دوسری سکرات موت میں آسانی اور تیسری عذاب قبرسے نجات۔''
 (المبسوط للسرخسی، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۲، ص۱۱۴ )
    (4) حضرت سیدنا ابو خلدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں: کہ میں حضرت سیدنا ابو العالیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ کل جب تم عید گاہ جاؤ، تو مجھ سے ملتے جانا۔ جب میں گیا تو مجھ سے فرمایا :''کیا تم نے کچھ کھایا؟''میں نے کہا:''ہاں۔'' فرمایا :''کیا تم نہا چکے ہو؟''میں نے کہا :''ہاں۔'' فرمایا:'' صدقہ فطر ادا کر چکے ہو؟'' میں نے کہا :''ہاں صدقہ فطر اداکر دیا ہے۔''فرمانے لگے:'' میں نے تمہیں اسی لیے بلایا تھا۔''پھر آپ نے یہ آیت کریمہ
 (قَدْ اَفْلَحَ مَن تَزَکّٰی وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی)
تلاوت کی اور فرمایا : ''اہل مدینہ صدقہ فطر اورپانی پلانے سے افضل کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے۔''
 (تفسیرطبری ، ج۱۲،ص۵۴۷، رقم:۳۶۹۹۲ )
صدقہ فطر کب مشروع ہوا؟
     ۲؁ھ میں رمضان کے روزے فرض ہوئے اور اسی سال عید سے دو دن پہلے صدقہ فطرکا حکم دیا گیا۔
 (الدرالمختار،کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۲ )
Flag Counter