| فیضانِ زکاۃ |
زکوٰۃ سالہا سال حساب لگانے کی بھی حاجت نہ رہے گی، اپنا کل مال بطور تصدّق انھیں دے کر قبضہ دلادے پھر وہ جس قدر چاہیں اسے اپنی طرف سے ہبہ کردیں،کتنی ہی زکوٰۃ اس پر تھی سب ادا ہوگئی اور سب مطلب بر آئے اور فریقین نے ہر قسم کے دینی و دنیوی نفع پائے، مولیٰ عَزَّوَجَلَّ اپنے کرم سے توفیق عطا فرمائے۔ آمین آمین یا رب العالمین۔ واﷲتعالٰی اعلم
خوشدِلی سے زکوٰۃ دیجئے
حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، ''جو ایمان کے ساتھ ان پانچ چیزوں کو بجالایا جنت میں داخل ہوگا ،جس نے پانچ نَمازوں کی ان کے وضو اور رکوع اورسجود اوراوقات کے ساتھ پابندی کی اور رمضان کے روزے رکھے اور جس نے استطاعت ہونے پرحج کیا اور خوش دلی سے زکوٰۃ ادا کی۔ ''
(مجمع الزوائد،کتاب الایمان ، فیما بنی علیہ الا سلام ، رقم ۱۳۹،ج۱،ص ۲۰۵ )
حضرتِ سیدنا عبداللہ بن معاویہ الغاضری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے تین کام کئے اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ،(۱)جس نے ایک اﷲ کی عبادت کی اور یہ یقین رکھا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں (۲)جس نے خوشدلی سے ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی (۳) جس نے زکوٰۃ میں بوڑھے اور بیمار جانو ریابو سید ہ کپڑ ے اور گھٹیامال کی بجائے اوسط درجے کا مال دیا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم سے تمہارا بہترین مال طلب نہیں کرتا اور نہ ہی گھٹیا مال دینے کی اجازت دیتا ہے ۔''
(ابوداؤد،، کتاب الزکاۃ ، فی زکاۃ السائمہ ،رقم ۱۵۸۲،ج۲، ص ۱۴۷ )