Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
102 - 149
قصور اپنا ہے
    اگر اس وجہ سے کہ مال کثیر اور برسوں کی زکوٰۃ ہے یہ رقم وافر دیتے ہُوئے نفس کو درد پہنچے گا، تو اوّل تو یہ ہی خیال کر لیجئے کہ قصور اپنا ہے سال بہ سال دیتے رہتے تو یہ گٹھڑی کیوں بندھ جاتی، پھر خدائے کریم عزّو جل، کی مہربانی دیکھئے، اس نے یہ حکم نہ دیا کہ غیروں ہی کو دیجئے بلکہ اپنوں کو دینے میں دُونا ثواب رکھا ہے، ایک تصدّق کا، ایک صلہ رحم کا۔ تو جو اپنے گھر سے پیارے،دل کے عزیزہوں جیسے بھائی، بھتیجے، بھانجے، انھیں دے دیجئے کہ ان کا دینا چنداں ناگوار نہ ہوگا، بس اتنا لحاظ کر لیجئے کہ نہ وہ غنی ہو نہ غنی باپ زندہ کے نا بالغ بچّے، نہ اُن سے علاقہ زوجیت یا ولادت ہو یعنی نہ وُہ اپنی اولاد میں نہ آپ انکی اولاد میں۔ پھر اگر رقم ایسی ہی فراواں(یعنی کثیر) ہے کہ گویا ہاتھ بالکل خالی ہُوا جاتا ہے تو دئے بغیر تو چھٹکارا نہیں، خدا کے وہ سخت عذاب ہزاروں برس تک جھیلنے بہت دشوار ہیں، دُنیا کی یہ چند سانسیں تو جیسے بنے گزر ہی جائیں گی۔
برسوں کی زکوٰۃ کی ادائیگی کا ایک حیلہ
     اگر یہ شخص اپنے ان عزیزوں کو بہ نیّتِ زکوٰۃ دے کر قبضہ دلائے پھر وہ ترس کھا کر بغیر اس کے جبر و اِکراہ کے(یعنی مجبور کئے بغیر) اپنی خوشی سے بطورِ ہبہ جس قدر چاہیں واپس کردیں تو سب کے لیے سراسر فائدہ ہے، اس کے لیے یہ کہ خدا کے عذاب سے چُھوٹا ،اﷲتعالیٰ کا قرض و فرض ادا ہُوااور مال بھی حلال وپا کیزہ ہو کر واپس ملا، جو بچ رہا وُہ اپنے جگر پاروں کے پاس رہا، ان کے لیے یہ فائدے ہیں کہ دنیا میں مال ملا عقبے میں اپنے عزیز مسلمان بھائی پر ترس کھانے اور اسے ہبہ کرنے اور اس کے ادائے زکوٰۃ میں مدد دینے سے ثواب پایا، پھر اگر ان پر پُورا اطمینان ہو تو
Flag Counter