Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
104 - 149
جانوروں کی زکوٰۃ

جانوروں کی زکوٰۃکب فرض ہوگی؟
ہر قسم کے جانور کی زکوٰۃ نہیں دیں گے اس میں تفصیل یہ ہے کہ 

    ٭ جو جانور تجارت کی غرض سے خریدے گئے ہیں ،وہ مال ِ تجارت ہیں اور ان کی زکوٰۃ ان کی قیمت کے حساب سے دی جائے گی ۔

    ٭ جو جانور سال کا اکثر حصہ جنگل میں چَرکر گزارہ کرتے ہوں اور چَرانے سے مقصودصرف دودھ اور بچے لینا اور فربہ کرنا ہے ،یہ سَائِمَہ کہلاتے ہیں ان کی زکوٰۃ دینا ہوگی ۔

    ٭ جو جانوراگرچہ جنگل میں چَرتے ہوں لیکن اس سے مقصود بوجھ لادنا یا ہل وغیرہ کے کام میں لانا یا سواری میں استعمال کرنایا ان کا گوشت کھانا ہو تو یہ جانور سَائِمَہ نہیں ہیں ،ان کی زکوٰۃ دینا واجب نہیں ہے ۔

    ٭ جن جانوروں کو گھر پر چارہ کھلاتے ہوں ان کی بھی زکوٰۃواجب نہیں ہے۔
 (ماخوذ از الدرالمختارو در المحتار ، کتاب الزکوٰۃ ، باب السائمۃ،ج۳،ص۲۳۲،۲۳۴)
نوٹ:جانوروں کی زکوٰۃ کے مصارف بھی وہی ہیں جو سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں وغیرہ کے ہیں۔
 (الفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ،الباب الثانی ،الفصل الاول،ج۳،ص۱۷۷)
تجارت کے لئے جانور خرید کر چَرانا شروع کردیا تو....
    اگر جانور تجارت کے لئے خریدا تھا مگر بعد میں چَرانا شروع کردیا تواگر اسے سائمہ بنانے کی نیت کرلی تو اب سال شروع ہوجائے گا اور اگر نیت نہیں کی تھی تو مال ِ تجارت ہی رہے گا ۔
Flag Counter