Brailvi Books

فیضانِ زکاۃ
101 - 149
کیجئے اور کھلے ہوئے سرکشوں، اشتہاری باغیوں میں نام لکھالیجئے، وہ نیک تدبیر یہی ہے کہ زکوٰۃ نہ دینے سے توبہ کیجئے ۔
زکوٰۃ ادا کردیجئے
    آج تک جتنی زکوٰۃ گردن پر ہے فوراً دل کی خوشی کے ساتھ اپنے رب کا حکم ماننے اور اسے راضی کرنے کو ادا کر دیجئے کہ شہنشاہِ بے نیاز کی درگاہ میں باغی غلاموں کی فہرست سے نام کٹ کر فرماں بردار بندوں کے دفتر میں چہرہ لکھا جائے۔ مہر بان مولا جس نے جان عطا کی، اعضادئے، مال دیا، کروڑوں نعمتیں بخشیں، اس کے حضور منہ اُجالا ہونے کی صورت نظر آئے اورمژدہ ہو ،بشارت ہو، نوید ہو، تہنیت ہو کہ ایسا کرتے ہی اب تک جس قدر خیرات دی ہے وقف کیا ہے، مسجد بنائی ہے، ان سب کی بھی مقبولی کی اُمید ہوگی کہ جس جُرم کے باعث یہ قابلِ قبول نہ تھے جب وہ زائل ہوگیا انھیں بھی باذن اﷲتعالیٰ شرفِ قبول حاصل ہوگیا۔
زکوٰۃ کا حساب کیسے لگائے ؟
    چارہ کار تو یہ ہے آگے ہر شخص اپنی بھلائی بُرائی کا اختیار رکھتا ہے، مدّتِ دراز گزرنے کے باعث اگر زکوٰۃ کا تحقیقی حساب نہ معلوم ہوسکے تو عاقبت پاک کرنے کے لیے بڑی سے بڑی رقم جہاں تک خیال میں آسکے فرض کر لے کہ زیادہ جائے گا تو ضائع نہ جائے گا ،بلکہ تیرے رب مہر بان کے پاس تیری بڑی حاجت کے وقت کے لیے جمع رہے گا وہ اس کا کامل اجر جو تیرے حوصلہ و گمان سے باہر ہے عطا فرمائے گا، اور کم کیا تو بادشاہ قہار کا مطالبہ جیسا ہزار روپیہ کا ویسا ہی ایک پیسے کا۔
Flag Counter