Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
99 - 691
 فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: ’’میں نے اپنی بیٹی حفصہ کے معاملے میں حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ملا قات کی اور ان سے اپنی بیٹی کے نکاح کے معاملے کی بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں غور کروں گا، پھر جب دوبارہ میری ان سے ملاقات ہوئی توانہوں نے نکاح کا ارادہ نہ ہونا ظاہر فرمایا۔ میں نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اس سلسلے میں ملاقات کی توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سکوت فرمایااور کوئی جواب نہ دیا مجھے حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مقابلے میں آپ کا رویہ پسند نہ آیا۔(کیونکہ آپ دونوں میں محبت کاگہرا رشتہ تھا) چند دنوں کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حفصہ کے نکاح کا پیغام بھیجاتو میں نے اپنی بیٹی رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نکاح میں دے دی۔جب حضرت سیدنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے میری ملاقات ہوئی توانہوں نے مجھ سے ارشاد فرمایا:’’اے عمر!شایدمیرے سکوت پر آپ ناراض ہیں؟‘‘میں نے کہا: ’’جی ہاں۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمانے لگے: ’’اے عمر! مجھے کوئی عذرتو نہیں تھا۔مگر میرے سکوت کی اصل وجہ میرے دل میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایک راز تھا اور وہ یہ کہ نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک بار حفصہ (سےنکاح کرنے)کاذکر کیا تھا اور میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا ور نہ آپ کو اصل وجہ ضروربتادیتااور اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنکاح نہ فرماتےتو یقینا میں اُن سے عقد کرلیتا۔‘‘    
 (صحیح البخاری، کتاب المغازی، شھود  الملائکۃ بدر، الحدیث: ۴۰۰۵،  ج ۳،  ص۲۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر کی غیرت ایمانی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عام حالات میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی نرم مزاج تھے ایسے معلوم ہوتا تھا کہ سختی ، خفگی اور غصے سے تو آشنا ہی نہیں ہیں، دھیمے انداز میں آہستہ آہستہ بات کرتے مگر اسلام کے معاملے میںانتہائی غیرت مند اور بہت سخت تھے۔ مدینۂ منورہ کے یہودیوں اور منافقوں کو اسلام کے متعلق تمسخرانہ