خلفائے راشدین اور منبر رسول
اعلی حضرت امام اہلسنت مجدددین وملت پروانہ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰنفتاوی رضویہ جلد۸،صفحہ۳۴۳پرمنبررسول کی وضاحت کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:’’حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقدس منبر کے تین زینے اس تخت کے علاوہ تھے جس پر بیٹھا جاتا ہے۔حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم درجہ بالا پر خطبہ فرمایا کرتے ، صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دوسرے پر پڑھا، فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے تیسرے پر،جب زمانہ ذوالنورین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا آیا پھر اَوّل پر خطبہ فرمایا،سبب پوچھا گیا، فرمایا: ’’اگر دوسرے پر پڑھتا لوگ گمان کرتے کہ میں صدیق کا ہمسر ہوں اور تیسرے پر تو وہم ہو تاکہ فاروق کے برابر ہوں ۔ لہٰذا وہاں پڑھا جہاں یہ احتمال متصور ہی نہیں۔‘‘اصل سنت اَوّل درجہ پر قیام ہے۔حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادب کی بنا پر ایسا کیا اور حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ادب کی خاطر۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر رسول اللہ کے راز دار
رسولاللہ کے راز کا پاس
حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی لخت جگرحضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سیدنا خنیس بن حذافہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے نکاح میں تھیں ۔جب غزوہ بدر میں حضرت سیدناخنیس بن حذافہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہشہید ہوگئے توحضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے نکاح کے سلسلے میں حضرت سیدنا عثمان غنی اور حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے گفتگو کا ارادہ فرمایا۔ چناچہ حضرت سیدنا عمر