Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
100 - 691
 اور طنزیہ باتیں کرنے کی عادت تھی۔جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان سے اس طرح کی باتیں سنتے تو آپ کے غصے کی انتہا نہ رہتی۔ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہجرت کرکے جب مدینہ تشریف لائے تومسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ یہودی اور مسلمان اپنے اپنے دین کی نشرواشاعت میں آزاد ہوں گے اور اپنے اپنے اطوارپر عمل کرنے میں کوئی فریق کسی فریق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ یہودیوں کا ابتدا میں یہ خیال تھا کہ وہ مہاجرین پر اثر انداز ہوکر انہیں مدینۂ منورہ کے دو مشہور اور بڑے قبیلوں اوس اورخزرج کے خلاف استعمال کریں گے، لیکن کچھ ہی دنوںبعد انہیں معلوم ہوگیاکہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے کیوں کہ مہاجرین اور اہل مدینہ کے درمیان ایسا مضبوط تعلق قائم ہوگیاتھاجو ہرگزمنقطع نہیں ہوسکتاتھااور اس کی وجہ یہ تھی کہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مہاجرین وانصارمیں رشتہ اخوت قائم فرما دیاتھا۔لہٰذا یہودیوں نے یہ خیال تودل سے نکال دیا البتہ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کمربستہ ہوگئے کہ اسلام کا مذاق اڑانے لگے اور یہ ان کا روزانہ کا معمول تھا۔اسی پس منظرمیںحضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی غیرت ایمانی کی ایک ایمان افروز حکایت ملاحظہ کیجئے۔ چنانچہ،
غیرت صدیق اکبراور یہودی عالم
ایک دن چند یہودی اپنے ایک عالم کے مکان میں بیٹھے تھے جس کا نام فنحاص تھا ،اتفاق سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی وہاں تشریف لے آئے ، یہودیوں کے اس گروپ کو غنیمت جان کرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہاں اسلام کی تبلیغ شروع کردی اورفنحاص سے فرمایا: 
’’اِتَّقِ اللّٰهَ وَأَسْلِمْ فَوَاَللّٰهِ إنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّ مُحَمَّدًا لَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ جَاءَكُمْ بِالْحَقِّ من عِنْدِهِ تَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَكُمْ في التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ‘‘
یعنی اے فنحاص!اللہ  سے ڈر اور اس پر ایمان لے آ،اللہ  کی قسم! تمہیں معلوم ہے کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم