کرفرمایا: ’’تم نے سچ کہا واللہ میں تمہیں متہم نہیں کرتاکہ تمہارے کہنے پراس نے یہ کہا۔‘‘(یعنی مدنی منا ہے اگرکہہ بھی دیا تو کوئی بات نہیں آپ پریشان نہ ہوں۔) (کنزالعمال،کتاب الخلافۃ مع الامارۃ ، الباب الاول فی خلافۃ الخلفاء، الحدیث: ۱۴۰۸۱، ج۳، الجزء:۵، ص۲۴۶)
کیوں آنکھ لڑائی تھی، کیوں بات بنائی تھی
اب رخ کو چھپا بیٹھے کر کے مجھے دیوانہ
بے خود کیے دیتے ہیں انداز حجابانہ
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جاناناں
سرکار کے جلوؤں سے روشن ہے دل نوری
تا حشر رہے روشن نوری کا یہ کاشانہ
منبرمنور کے زینے کا احترام
میٹھے میٹھے اسلام بھائیو! واضح رہے کہ مذکورہ بالا حکایت میں جناب صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے منبرپربیٹھنے کا ذکر ہے یہ وہ جگہ نہیں تھی جہاں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حیات طیبہ میں تشریف رکھتے تھے کیونکہ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان فرماتے ہیں کہ زندگی بھرحضرتِ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر منورپر اس جگہ نہیں بیٹھے جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف فرما ہوتےتھے، اِسی طرح حضرتِ سیدنا عُمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ،حضرتِ سیدناصدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جگہ اورحضرتِ سیدناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرتِ سیدناعُمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ، کی جگہ پر جب تک زندہ رہے کبھی نہیں بیٹھے۔ (تاریخ الخلفاء، ص۵۵)
یقینا منبع خوف خدا صدیقِ اکبر ہیں
حقیقی عاشقِ خیرالوریٰ صدیقِ اکبر ہیں