Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
96 - 691
 میرے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے مشابہ ہے۔ اپنے والد حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مشابہ نہیں۔‘‘یہ سن کر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْممسکرانے لگ گئے۔
(صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب صفۃ النبی، الحدیث: ۳۵۴۲،  ج۲،  ص۴۸۶)
زاروقطار رو پڑے
حضرت سیدنا عبد الرحمن اصبہائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدناحسن بن علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جب چھوٹے سے مدنی منے تھے تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آئے، آپ اس وقت خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے منبرپر رونق افروزتھے، حضرت سیدناحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے چونکہ ہمیشہ منبر پر اپنے نانا جان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کو بیٹھے دیکھا تھااس لیے ایک نئے شخص کو دیکھ کر اپنی ننھی سوچ کے مطابق کہنے لگے:’’آپ میرے بابا جان کی جگہ سے نیچے اترو۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ گوارا نہ فرمایاکہ شہزادۂ اہل بیت کی دل شکنی ہو،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفوراًنیچے تشریف لے آئے اور فرمایا: اے حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ!تونے سچ کہا یہ تیرے بابا جان ہی کی جگہ ہے۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدناحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو فرط محبت سے اٹھاکراپنی گود میں بٹھالیااورگویا اس مدنی منے نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر کرکے ایک عاشق صادق کے دل کے تار چھیڑ دیے،محبوب کے ساتھ بیتے ہوئے وہ اَنمول اَیام یاد آگئے ،محبوب کی میٹھی اور دل ربا ادائیں یاد آگئیں،ضبط کابندھن ٹوٹ گیا اورجدائی کے وہ جذبات جوبڑی مشکل سے دل میں رُکے ہوئے تھے آنسو ؤں کی صورت میں آنکھوں سے بہہ نکلے اور فراق یار میں زاروقطار روپڑے۔حضرت سیدناعلی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے جب امیر المؤمنین کو زاروقطار روتے دیکھاتو وہ بھی پریشان ہو گئے، اور دل میں یہ خیال آیا کہ شاید امیر المؤمنین اس لیے روئے ہیں کہ میں نے اسے سکھایا ہے تو فرمانے لگے:’’خداکی قسم! یہ میرے حکم سے نہیں ہوا۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کی طرف پیار بھرے اندازمیں دیکھ