خلیفہ ہونے کے باوجود خودداری
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سب سے بڑی خودداری یہ ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمنصب خلافت پر جلوہ افروز ہوئے تو بیت المال سے اپنے لیے کوئی وظیفہ مقرر کرنے کے بجائے تجارت کو ترجیح دی اور بازار کی طرف چل پڑے لیکن حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو زبردستی اس بات پر راضی کیا کہ آپ کی تجارت امور خلافت میں مخل ہوگی لہٰذا ہم آپ کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کردیتے ہیں۔ (تاریخ الخلفاء، ص۵۹)
صدیق اکبر کا حلم وبرد باری و رحم دلی
آسمانوں میں حلیم
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ بارگاہ رسالت میں حاضرسیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کیا: ’’اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے! سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہزمین کی نسبت آسمانوں میں زیادہ مشہور ہیں اور آسمانوں میں ان کا نام حلیم ہے۔‘‘ (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۸۲ ملخصا)
صدیق اکبر کی اہل بیت پر شفقت
حضرت سیدنا عقبہ بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنماز عصر پڑھ کر باہر نکلے اورحضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیرخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس سے گزرے جو اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نہایت ہی شفقت سے انہیں اٹھا کر اپنی گردن پر بٹھالیا اور فرمایا:’’مجھے میرے والد کی قسم! تو