Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
94 - 691
 تَعَالٰی عَنْہتشریف لائے اوراس نابینا بڑھیا کے سارے کام کردیے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبڑے حیران ہوئے کہ خلیفۂ وقت ہونے کے باوجود ایسی انکساری!ارشاد فرمایا: ’’حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی تو ہیں جو مجھ سے نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔‘‘  (کنزالعمال، کتاب الفضائل،فضائل الصحابۃ،   فضل الصدیق، الحدیث:۳۵۶۰۲،  ج۱۲، ص۲۲۱)
ضعیفی میں یہ قوت ہے ضعیفوں کو قوِی کر دیں
سہارا لیں ضعیف و اقویا صدیقِ اکبر کا
بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیقِ اکبر کا
ہے یار غار، محبوبِ خدا صدیقِ اکبر کا
صدیق اکبر  کی خود داری
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بسا اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ عاجزی وانکساری کرنے والا اپنی بے احتیاطی کے سبب لوگوں کی نظر میں خودداری کھوبیٹھتاہے لیکن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی شخصیت وہ ہے جو نہایت ہی منکسر المزاج ہونے کے ساتھ ساتھ خود داری میں بھی اپنی مثال آپ تھی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کسی بھی موقع پر اپنی خودداری کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔چنانچہ،
اونٹنی کی نکیل بھی خود اٹھاتے
حضرت سیدنا ابن ابی ملیکہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ سے اونٹنی کی نکیل گرپڑتی تواسے اٹھانے کے لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنا ہاتھ اونٹنی پر مارتے اور اسے بٹھا دیتے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے رفقاء عرض کرتے کہ ’’حضور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہمیں حکم دیا ہوتا ہم یہ اٹھا کر پیش خدمت کر دیتے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے: ’’إِنَّ حَبِيبِي رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا  یعنی میرے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے حکم دیا تھا کہ میں کسی سے سوال نہ کروں۔‘   (مسند امام احمد، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث:۶۵، ج۱، ص۳۴)