لشکر کے ساتھ ساتھ پیدل چلتے رہے
حضرت سیدنا امام مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیدنا یحیی بن سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ملک شام کی طرف چند لشکر بھیجے ۔ ان میں حضرت سیدنا یزید بن ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا لشکر بھی تھا انہیں ملک شام کے چوتھائی حصے کا امیر مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی روانگی کے وقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانہیں چھوڑنے کے لیے ان کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھے۔حضرت سیدنایزیدبن ابوسفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں یوں عرض گزار ہوئے: ’’إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَیعنی اے رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ! یا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسوار ہوجائیں یا میں اپنے گھوڑے سے اتر جاتا ہوں۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَلاَ أَنَا بِرَاكِبٍ إِنِّى أَحْتَسِبُ خُطَاىَ هَذِهِ فِى سَبِيلِ اللَّهِیعنی نہ تو تم اپنے گھوڑے سے اترو گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گابلکہ میں تو اپنے ان قدموں کو راہ خدا میں شمار کرتاہوں۔‘‘ (موطا امام مالک ، کتاب الجہاد، باب النھی عن قتل النساء، الحدیث:۱۰۰۴، ج۲، ص۸)
عوامی امورکی ادائیگی
حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رات کے وقت مدینہ منورہ کے کسی محلے میں رہنے والی ایک نابینا بوڑھی عورت کے گھریلو کام کاج کردیا کرتے تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس کے لیے پانی بھر لاتے اور اس کے تمام کام سرانجام دیتے، حسب معمول ایک مرتبہ بڑھیا کے گھر آئے تویہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سارے کام ان سے پہلے ہی کوئی کرگیا تھا۔بہرحال دوسرے دن تھوڑا جلدی آئے توبھی وہی صورت حال تھی کہ سب کام پہلے ہی ہوچکے تھے، جب دو تین دن ایسا ہواتوآپ کوبہت تشویش ہوئی کہ ایسا کون ہے جومجھ سے نیکیوں میں سبقت لے جاتاہے؟ ایک دن آپ دن میں ہی آکرکہیں چھپ گئے جب رات ہوئی تودیکھا کہ خلیفۂ وقت امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ