صدیق اکبر کی عاجزی وانکساری
خلیفہ ہونے کے باوجود انکساری
حضرت سیدتنا انیسہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہخلیفہ بننے کے تین سال پہلے اور خلیفہ بننے کے ایک سال بعد بھی ہمارے پڑوس میں رہے، محلے کی بچیاں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس اپنی بکریاں لے کر آتیں، آپ ان کی دلجوئی کے لیے دودھ دوھ دیا کرتے تھے۔ حضرت سیدنا محمد بن سعد وغیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمبیان کرتے ہیںکہ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوخلیفہ بنایاگیاتومحلے کی ایک بچی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس آئی اور کہنے لگی:’’اب تو آپ خلیفہ بن گئے ہیں ،آپ ہمیں دودھ دوھ کر نہیں دیں گے۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےارشادفرمایا:’’کیوں نہیں!اب بھی میں تمہیں دودھ دوھ کر دیا کروں گااورمجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کرم سے یقین ہے کہ تمہارے ساتھ میرے رویے میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔‘‘چنانچہ خلیفہ بننے کے بعدبھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان بچیوں کودودھ دوھ کر دیا کرتے تھے۔
(تھذیب الاسماء واللغات ،باب ابی بکر،فصل فی علمہ وزھدہ وتواضعہ، ج۲، ص ۴۸۰)
سلام کی خصوصیت پراظہار تعجب
حضرت سیدنا میمون بن مہران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہوکر یوں سلام عرض کیا:’’اے رسولاللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ! آپ پرسلام ہو۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے نہایت ہی تعجب کے ساتھ ارشادفرمایا:’’اتنے لوگوں میں تم نے صرف مجھے خاص کرکے سلام کیا۔‘‘( آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنہایت ہی تواضع فرماتے تھے اس لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ مجلس میں انہیں کوئی خاص کرکے سلام کرے۔) (مصنف ابن ابی شیبۃ،کتاب الادب، باب من کان یکرہ اذا سلم۔۔۔الخ،الحدیث: ۲، ج۶، ص۱۳۵)