Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
91 - 691
شراب سے سخت نفرت ہوگئی
ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایسے شخص کے پاس سے گزرے جو شراب کے نشے میں مدہوش تھا،وہ گندگی میں اپنا ہاتھ ڈالتا اور اسے اپنے منہ کے قریب کرتا جب اس کی بدبومحسوس ہوتی تودور کردیتا،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ دیکھا تو ارشاد فرمایا:’’اسے معلوم ہی نہیں کہ یہ کیا کررہاہے؟‘‘بس اس کے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو شراب سے سخت نفرت ہوگئی اوراسے اپنے اوپرحرام کرلیا۔  (جمع الجوامع،  مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۸۸، ج۱۱، ص۲۶، حلیۃ الاولیاء، الرقم:۱۴۰، ج۷، ص۱۸۴)
عزت وغیرت کی حفاظت
حضرت سیدنا ابوالعالیہ ریاحی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا گیا:’’کیا آپ نے زمانہ جاہلیت میں کبھی شراب پی ہے؟‘‘فرمایا:’’میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ جب وجہ پوچھی گئی توارشاد فرمایا:’’میں اپنی عزت اور غیرت کی حفاظت کے لیے شراب نہیں پیاکرتاتھاکیونکہ جوشراب پیتاہے اس کی عزت وغیرت دونوں ضائع ہوجاتی ہیں۔‘‘جب سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اس بات کا علم ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو دفعہ ارشاد فرمایا:’’ابوبکر نے سچ کہا۔‘‘  (کنزالعمال، کتاب الفضائل ، باب فضائل الصحابۃ،  فضل الصدیق، الحدیث:۳۵۵۹۳، ج۶، الجزء:۱۲ ، ص۲۲۰)
کبھی کوئی بے ہودہ شعر نہ کہا
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں:’’اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے زمانہ جاہلیت اورزمانہ اسلام دونوں میں کبھی کوئی (بے ہودہ)شعر نہیں کہا۔‘‘
(تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۳۳۴)
نہایت مُتقی و پارسا صِدّیقِ اکبر ہیں
تقی ہیں بلکہ شاہِ اَتقیا صِدّیقِ اکبر ہیں