Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
90 - 691
فرماتے ہیں:’’اولیائِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں کہ پوری کائنات میں مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جیسا نہ کوئی پیر ہے اورنہ ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسا کوئی مرید۔‘‘		 (فتاوی رَضویہ ،  ج۱۱، ص۳۲۶) 
عقل ہے تیری سِپَر، عشق ہے شَمشیر تری
میرے دَرویش! خِلافت ہے جہانگیر تری
مَا سِوَا اللہ  کے لئے آگ ہے تکبیر تری
تُو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر کی عفت وپاکدامنی
 شراب کو اپنے اوپرحرام کررکھاتھا
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہزمانہ جاہلیت میں بھی عربوں میں رائج متعدد عیوب اور اَخلاقی بے راہ رویوں سے مکمل طور پربچے ہوئے تھے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی نفیس فطرت میں ہی ایسی غلیظ چیزوں کی نفرت بسی ہوئی تھی،خصوصاً شراب جیسی اُمّ الخبائث شے کو آپ نے کبھی ہاتھ نہ لگایا۔چنانچہ،
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے زمانہ جاہلیت میں بھی شراب کواپنے اوپر حرام کررکھا تھااور آپ نے نہ توزمانہ جاہلیت میں شراب پی اور نہ ہی زمانہ اسلام میں ۔	
    				(معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم، معرفۃ نسبۃ الصدیق، ج۱،ص۵۸)