صدیق اکبر کے اوصاف حمیدہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عموما یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ عقل مندی جہاں انسان کی روشن ضمیری کا باعث بنتی ہے وہاں بعض دفعہ اسے غلط راہوں پر بھی گامزن کردیتی ہے، لیکن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپراللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ خاص فضل وکرم اوراحسان تھا کہ وہ اپنے گرد پھیلی ہوئی گمراہیوں، غلط رسوم ورواج، اخلاقی ومعاشرتی برائیوں اور اپنی قوم کے ناروا سلوک سے ہمیشہ دامن کشاں رہے،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاخلاق رذیلہ سے پاک صاف ہونے کے ساتھ ساتھ اَوصاف حمیدہ سے بھی متصف تھے،بلنداخلاق، عالی کردار، سلامت رو، ملنسار، وعدے کے سچے، عہدکے پکےاورنہایت ہی ایما ندار تاجر تھے، آپ کے تمام دوست، احباب، رشتہ دارآپ کے محاسن وکمالات کابرملا اعتراف کرتے تھے اور اِنہی خوبیوں کی بناپر مکۂ مکرمہ اور اس کے قرب وجوار میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو محبت وعزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تمام خصائل کے جامع تھے۔چنانچہ،
تین سو ساٹھ خصائل
حضرت سیدنا سلیمان بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اچھی خصلتیں تین سوسا ٹھ ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی سے بھلائی کا ارادہ فرماتاہے تو اس کی ذات میں ایک خصلت پیدافرمادیتاہے اوراسی کے سبب اسے جنت میں بھی داخل فرمادیتاہے۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا میرے اندر بھی ان میں سے کوئی خصلت موجود ہے؟‘‘ ارشادفرمایا:’’اے ابوبکر! تمہارے اندر تو ساری خصلتیں موجود ہیں۔‘‘ (تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰،ص۱۰۳)
پیر کامل اورمریدکامل
میرے آقا اعلیٰ حضرت،امام اہلسنّت،مولاناشاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن’’فتاوی رضویہ شریف‘‘میں