٭…حضرت سیدتنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے حضرت سیدتنا اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے دو بیٹے حضرت سیدنا عون اور حضرت سیدنا یحیٰی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاہیں ، یہ دونوں حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے اخیافی یعنی ماں شریک بھائی ہوئےاور والدکی طرف سے علوی کہلائیں گے۔
٭…حضرت سیدنا علی المرتضیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمی دیگر ازواج سے ہونے والی اولاد اور حضرت سیدتنا اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے ہونے والی اولاد علاتی یعنی باپ شریک بہن بھائی ہوئے اور والد کی طرف سے علوی کہلائیں گے۔
(7)سیدنا علی المرتضی وسیدنا صدیق اکبردونوں کی رشتہ داری
حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے صاحب زادے حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ حضرت سیدتنا شہر بانو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ دونوں آپس میں سگی بہنیں تھی۔یعنی سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ دونوں کی بہوئیں آپس میں سگی بہنیں تھیں۔حضرت سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے دور خلافت میں حضرت سیدنا حریث بن جابرجعفی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے شاہ ایران یزد جردبن شہر یار کی دو بیٹیاں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں بھیجی تو آپ نے ان میں سے بڑی بیٹی کا نکاح اپنے بیٹے حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے فرمادیا اور چھوٹی بیٹی کا نکاح حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے فرمادیا۔ان سے حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیدنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپیدا ہوئے اور حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیدنا قاسم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپیداہوئے۔یوں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے بیٹے حضرت سیدنا امام حسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہم زلف ہوئے۔
(لباب الانساب والالقاب والاعقاب،ابناء علی ،العلویۃ الجعفریۃ و العقیلیۃ،ج۱، ص۲۲ )