٭…عبد اللہ بن زبیر بن عوام بن خویلد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ۔
٭…اُمّ المؤمنین خدیجۃ الکبری بنت خویلد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ۔ (سیر اعلام النبلاء، عبد اللہ بن زبیر، ج۴، ص۴۶۲)
(5)سیدنا صدیق اکبرکے نواسے سیدنا امام حسن کے داماد
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے نواسے یعنی حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر بن عوام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جن کی والدہ حضرت سیدتنا اسماء بنت ابی بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاہیں یہ حضرت سیدنا امام حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے داماد محترم ہیں کہ حضرت سیدنا امام حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی بیٹی حضرت سیدتنا اُمّ الحسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ ہیں۔ لہٰذا ان سے ہونے والی اولاد اپنے والد کی طرف سے ’’صدیقی ‘‘ اور والدہ کی طرف سے ’’علوی وفاطمی وحسنی ‘‘ہے۔
(6)سیدنا علی المرتضی وسیدنا صدیق اکبر کے بیٹے میں رشتہ داری
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ایک بیٹے حضرت سیدنا محمد بن ابو بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہیں جن کی والدہ حضرت سیدتنا اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاہیں۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کے بعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمے نکاح فرمایا۔چنانچہ،
٭…حضرت سیدنا محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیدنا علی المرتضیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمے سوتیلے بیٹے ہوئے۔ البتہ ان سے ہونے والی تمام اولاد صدیقی ہی کہلائے گی۔
٭…حضرت سیدناعلی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمی وہ اولاد جو حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے ہے جیسے حضرت سیدنا امام حسن وحسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا وغیرہ ، یہ تمام حضرت سیدنا محمد بن ابو بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سوتیلے بہن بھائی ہوئے۔