Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
74 - 691
 آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے آپ کو جنبش سے باز رکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چشمانِ مبارکہ خواب سے بیدار ہو جائیں چنانچہ صبح ہوگئی اور نمازکے لئے پانی عدم دستیاب، اس وقت   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے لطف و کرم سے آیت تیمم نازل فرمائی اور لشکر اسلام نے صبح کی نماز تیمم کے ساتھ ادا کی حضرت سیدنا اسید بن حضیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’مَا ھِیَ بِاَوَّلِ بَرَکَتِکُمْ یَا اٰلَ اَبِیْ بَکْرٍ یعنی اے اولاد ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے۔( مطلب یہ کہ مسلمانوں کو تمہاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں) سیدتنا عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں کہ اس کے بعد جب اونٹ اٹھایا گیا تو ہار اونٹ کے نیچے سے مل گیا۔( گویا حکمت الٰہی یہی تھی کہ سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  کے ہار گم ہوجانے کے سبب مسلمان ایسی جگہ ٹھہرجائیں جہاں پانی نہ ہو اور پھررب کی طرف سے حکم تیمم نازل ہو اورتا قیامت مسلمانوں کے لئے آسانی اور سہولت مہیا کی جائے ۔)
(صحیح البخاری،کتاب التیمم،باب التیمم، الحدیث: ۳۳۴، ج۱، ص۱۳۳ملخصا)
دوسری بیٹی، سیدتنا اسماء بنت ابی بکر 
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سب سے بڑے بیٹے حضرت سیدناعبداللہ  بن ابوبکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی سگی بہن ہیں اورآپ ہی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی سب سے بڑی بیٹی ہیں، ہجرت کے موقع پر زاد سفر باندھنے کے لیے کوئی کپڑا نہ تھا آپ نے ہی اپنے کمر بندکے دوٹکرے کرکے باندھا تھا اس وقت سے آپ ذَاتُ النَّطَاقَیْن کے لقب سے مشہور ہوگئیں۔حضرت سیدنازبیر بن عوام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے مکہ مکرمہ میں نکاح کیا جس سے متعدد اَولاد ہوئی ۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے سو سال عمر پائی آخری عمر میں بینائی جاتی رہی اور مکہ مکرمہ میں وصال ہوا۔ آپ کے بیٹے حضرت سیدنا عبداللہ  بن زبیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی زیارت کی اورمقام صحابیت پرفائز ہوئے۔