Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
73 - 691
ساتھ رازدار بھی تھیں اور آپ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے راز وہ اپنے والدین سے بھی پوشیدہ رکھتی تھیں۔ چنانچہ،
ایک بارحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہان کے پاس تشریف لائے۔آپ فتح مکہ کے لیے روانگی کی غرض سے گیہوں چھان رہیں تھیں اور نبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کویہ معاملہ مخفی رکھنے کا حکم دیا تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے دریافت کیا:’’یَا بُنَیَّۃُ! لِمَ تَصْنَعِیْنَ ھٰذَا الطَّعَام؟ یعنی اے بیٹی! تم یہ کھانے کا سامان کیوں تیار کررہی ہو؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے سکوت فرمایااور کوئی جواب نہ دیا۔پھر آپ نے پوچھا:’’ اَیُرِیْدُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَنْ یَّغْزُو؟ یعنی کیا رسولاللہ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغزوے کا ارادہ رکھتے ہیں؟‘‘اس سوال پر بھی سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا خاموش بیٹھی رہیں۔ اسی طرح صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کئی سوالات پوچھے لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا بالکل خاموش بیٹھی رہیں۔سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی بیٹی کی مسلسل خاموشی دیکھی تو سمجھ گئے کہ یہ تربیت یافتہ بیٹی   اللہ  
عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا راز کبھی افشا نہیں کرسکتی۔ چنانچہ وہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوگئے اورسرکار صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ سے مطلوبہ معلومات حاصل کرلیں۔     (البدایۃ والنھایۃ، ج۳، ص۴۷۵)
سیدتنا عائشہ صدیقہ کی برکت
  ایک سفر میں سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا   کا ہار مدینہ طیبہ کے قریب کسی منزل میں گم ہوگیا، سرکار مدینہ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس منزل پر پڑاؤ ڈالا تاکہ ہار مل جائے، نہ منزل میں پانی تھا نہ ہی لوگوں کے پاس، لوگ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حضرت سیدتنا عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکی شکایت لائے،حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکےپاس تشریف لائے، دیکھا کہ راحت العاشقين، امام المتقینصَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  کی آغوش میں اپنا سر مبارک رکھ کر آرام فرمارہے ہیں۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا پر سختی کا اظہار کیا لیکن