تیسری بیٹی،سیدتنا اُم کلثوم
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں،آپ اپنی والدہ حبیبہ بنت خارجہ بن زید کے پیٹ میں تھیں کہ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا وصال ہوگیا اور بوقت وصال آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے انہی کی پیدائش کی بشارت اوروراثت کی وصیت فرمائی تھی(۱) اور یوں صدیق اکبر کی وفات کے بعد اُمّ کلثوم پیدا ہوئیں۔حضرت سیدتنا ام کلثوم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے حضرت سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے نکاح کیا۔ (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۲۶۷)
نسل در نسل صحابی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھرانے کو ایک ایسا شرف حاصل ہوا جو اس گھرانے کے علاوہ کسی اور مسلمان گھرانے کو حاصل نہیں ہوا۔ ان کا شرف یہ تھا کہ وہ خود بھی صحابی ، ان کے والد بھی صحابی، ان کے بیٹے بھی صحابی اور پھر ان کے پوتے بھی صحابی، ان کی بیٹیاں بھی صحابیات، ان کے نواسے بھی صحابی۔
والداور اولاد دونوں صحابی
حضرت سیدناموسیٰ بن عقبہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ہم صرف چار ایسے افراد کو جانتے ہیں جوخود بھی مشرف بہ اسلام ہوئے اورشرف صحابیت پایا اور ان کے بیٹوں نے بھی اسلام قبول کرکے شرف صحابیت حاصل کیا۔ان چاروں کے نام یہ ہیں:(۱)ابوقحافہ عثمان بن عمر(۲) ابوبکرعبداللہ بن عثمان (۳)عبد الرحمٰن بن ابی بکر (۴)اور محمد بن عبدالرحمٰن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم۔ (المعجم الکبیر، نسبۃ ابی بکر الصدیق واسمہ، الحدیث:۱۱، ج۱، ص۵۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
(1)…تفصیلی واقعہ اسی کتاب کے موضوع ’’کرامات صدیق اکبر‘‘کرامت نمبر۲صفحہ ۵۳۶پر ملاحظہ کیجئے۔