Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
71 - 691
میں پیش کی آپ نے خوب مسواک فرمائی اور اس سے زائد فرمائی جتنی عادت شریفہ تھی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا    کو دے دی ، حضرت سیدتنا اُمّ المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  فرماتی ہیں کہ دنیا کے اس آخری دن میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے لعاب دہن کو حضورِ اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لعاب دہن سے ملادیا جو آپ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آخرت کا پہلا دن تھا۔  (سیرت سیدالانبیاء، ص۶۰۲، مدارج النبوۃ ، ج۲، ص۴۲۶)
تیسرے بیٹے، سیدنا محمد بن ابی بکر 
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ابو القاسم ہے اورقریش کے بڑے پارسا لوگوں میں شمارہوتا ہے۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی ولادت حجۃ الوداع کے موقع پر ہوئی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی پرورش امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمائی۔حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کومصرکا گورنربنایا تھا مگر وہاں کا چارج سنبھالنے سے قبل حضرت سیدناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا وصال ہو گیا۔حضرت سیدناعلی المرتضیکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ے بھی انہیں عاملِ مصر بنایا تھا۔
پہلی بیٹی،سیدتنا عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سیدنا عبد الرحمن بن ابوبکررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی سگی بہن ہیں،آپ کی ولادت بعثت نبوی کے چوتھے سال ہوئی نیز نورکے پیکر، تمام نبیوں کےسَرور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے آپ سے دس بعثت نبوی میں نکاح فرمایایعنی نکاح کے وقت آپ کی عمر چھ سال تھی۔آپ اُمّ المؤمنین یعنی تمام مسلمانوں کی ماں ہیں اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لیے یہ بھی ایک عظیم شرف ہے کہ آپ کی یہ بیٹی اُمّ المؤمنین ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دیگرتمام ا زواج کے مقابلے میں بہت لاڈلی تھیں اورسرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  آپ سے بہت محبت فرمایاکرتے تھے۔   (سیرت سید الانبیاء، ص۹۴،۱۲۰)