کی شہاد ت ہوئی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا انتقال شوال المکرم سن ۱۱ ہجری میں ہوا اور ترکے میں صرف سات دینار چھوڑے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے اولاد کا سلسلہ نہیں چلا۔ (الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،باب عبد اللہ بن ابی بکر، ج۳، ص۱۱، الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ،عبد اللہ بن ابی بکر، ج۴، ص۲۴)
دوسرے بیٹے، سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر
ان کی کنیت ابو عبداللہ ہے، صلح حدیبیہ کے موقع پر ایمان لائے، ہجرت مدینہ کی سعادت بھی حاصل کی،کاتب وحی مقرر ہوئے،بہت ہی بہادرتھے دور جاہلیت اور دوراسلام دونوںمیں ان کی بہادری کے واقعات بہت مشہور ہیں اور خصوصاً فتوحات شام میں ان کی جنگی مہارت اورجذبۂ جہاد قابلِ ستائش ہے، عراق کا مشہور شہر بصرہ آپ ہی کے ہاتھوں فتح ہوا۔جنگ بدر میں کفار کے ساتھ تھے، پھراللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پراور ان کی والدہ سیدتنا اُم رومان بنتِ عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاپراپنا خصوصی فضل وکرم فرمایاکہ دونوں اسلام کی سعادت سے مشرف ہوئے آپ کی والدہ نے بھی ہجرت کی۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی وفات ۵۳سن ہجری میں مکۂ مکرمہ کے ایک پہاڑ کے قریب ہوئی، آپ کی ہمشیرہ اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا آپ کے جسدخاکی کو حرمِ کعبہ میں لائیں اورآپ کو وہیں دفن کیاگیا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے محمد بن عبدالرحمن نے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی اور ایمان سے مشرف ہوئے۔
سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر کی سعادت مندی
خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی علالت کے آخری ایام میں ترمسواک استعمال فرمائی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ سعادت مندی ہے کہ جو مسواک سرکار صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استعمال فرمائی وہ آپ ہی کے پاس تھی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے وہ مسواک ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے اشارہ نبوی کے مطابق لی اسے اپنے دانتوں سے نرم کیا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت