پردہ فرمایا تو حضرت سیدناعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے آپ سے نکاح کرلیا،اس طرح آپ کے بیٹے محمدکی پرورش حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمائی۔ (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۲۶۶)
اولادکا تذکرہ فضیلت سے خالی نہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اَولاد کا تذکرہ اگرچہ سیرت کے لوازمات میں سے نہیں،مگرجب کسی کا نسب بیان کیا جائے تو اولاد کی طرف ذہن مائل ہو ہی جاتا ہے کہ اَولاد کا تذکرہ بھی فضیلت سے خالی نہیں، کیونکہ اولاد کا نیک ہونابھی والدین کی سرفرازی،عزت وعظمت اورفخر کا باعث ہوتاہے۔جبکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے والداورخود آپ کے خصائص میں یہ بھی ہے کہ آپ کی چار پشتیں متواتر دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مدنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت سے فیض یافتہ ہیں اور انہیں شرف صحابیت حاصل ہے۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی اولاد کی تعداد چھ ہے،تین بیٹیاں اورتین بیٹے۔تفصیل درج ذیل ہے:
پہلے بیٹے، سیدنا عبداللہ بن ابی بکر
یہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سب سے بڑے بیٹے ہیں، قدیم الاسلام اور صحابیٔ رسول بھی ہیں۔ مکہ، حنین اور طائف کی فتوحات میں سرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ہجرت نبوی میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ قریش کی دن بھر کی خبریں رات کو غار ثور میں پہنچاتے رات غار میں گزار کر صبح ہی صبح اندھیرے میں مکہ آجاتے ۔ سفر ہجرت کا رہبر عبد اللہ بن اریقط جب نبیٔ اکرم نور مجسم صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو مدینہ منورہ پہنچا کر واپس لوٹا اور آپ کو ان دونوں کے منزل مقصود پر پہنچنے کی اطلاع دی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ عیال صدیقی کو لے کر مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اور اپنے والد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہی کے دورخلافت میں دنیائے فانی سے دارآخرت تشریف لے گئے۔غزوہ طائف میں ایک تیر لگنے سے زخمی ہوئے جسے اَبُومِحْجَنْ ثَقْفِینے چلایا تھا، وہ زخم ٹھیک ہوگیا لیکن بعد میں پھر ہرا ہو گیا اسی سبب سے آپ