Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
68 - 691
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  تدفین میں شریک تھے، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کی قبر انور میں داخل ہوئے اور ان کے بارے میں ارشاد فرمایا: ’’ جو حورعین میں سے کسی عورت کو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔ ‘‘ بعض علماءِ کرام فرماتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے حضرت سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دور میں انتقال فرمایا، تذکرۃ القاری میں ہے کہ پہلا قول اصح ہے یعنی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک دور میں ہی انتقال فرمایا۔  
(سیرت سید الانبیاء، ص۳۹۳)
تیسرا نکاح اور اس سے اولاد
تیسرا نکاح حبیبہ بنت خارجہ بن زیدسے ہوا، ان سے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی سب سے چھوٹی بیٹی حضرت سیدتنا اُمّ کلثوم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا پیدا ہوئیں۔
چوتھا نکاح اور اس سے اولاد
 	چوتھا نکاح سیدتنا اسماء بنت عمیس سے ہوایہ حضرت سیدناجعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ تھیں، جنگ موتہ میں شام کے اندرحضرت سیدنا جعفر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی شہادت ہوگئی تو ان سے حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے نکاح کرلیا۔جب یہ نبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ حج کا سفر کرتے ہوئے ۲۵ ذوالقعدہ کو ذوالحلیفہ میں پہنچیں تو آپ کے بیٹے محمد کی ولادت ہوگئی،حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی ساتھ ہی تھے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے ارشاد فرمایا: ’’غسل کرکے حج کے ارکان ادا کرتی رہو، ہاں کعبے کا طواف نہ کرنا (کیونکہ طواف کے لیے یقینا مسجد حرام میں داخل ہوناپڑے گااور نفاس والی عورت کا مسجد میں داخلہ ممنوع ہے) آپ وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں اسلام میں یہ شرعی مسئلہ درپیش آیا یوں قیامت تک یہ مسئلہ آپ کے سبب سے نافذ ہوگیا۔آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکی پاک دامنی کی شہادت خودحُسنِ اخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے دی۔جب حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دنیاسے