اوررسول ہیں۔‘‘حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی والدۂ ماجدہ کو کلام رسولاللہ کی تصدیق کی وجہ سے بیداری سے پہلے ہی بخش دیا گیا۔ (الروض الفائق، ص۷)
صدیق اکبر کی ازواج (بیویاں) اوراولاد
ازواج کی تعداد
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی ازواج کی تعداد چارہے آپ نے دو۲نکاح مکۂ مکرمہ میں کیے اور دو۲مدینۂ منورہ میں۔
پہلا نکاح اور اس سے اولاد
پہلا نکاح قریش کے مشہور شخص عبد العزی کی بیٹی اُم قتیلہ سے ہوابعض کے نزدیک اس کانام اُمّ قتلہ ہے، یہ قریش کے قبیلہ بنو عامر بن لؤی سےتعلق رکھتی تھی۔ اس سے آپ کے ایک بڑے بیٹے حضرت سیدنا عبد اللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور ایک بیٹی حضرت سیدتنااسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاپیداہوئیں۔
دوسرا نکاح اور اس سے اولاد
دوسرا نکاح اُمّ رومان(زینب)بنت عامر بن عویمرسے ہوایہ قبیلہ فراش بن غنم بن کنانہ سے تعلق رکھتی تھیں،ان سے ایک بیٹے حضرت سیدناعبد الرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاورایک بیٹی اُمّ المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا پیدا ہوئیں۔حجۃ الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات کو عمرہ کے لیے لے کر جانے والے یہی حضرت سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہی تھے۔
جوحورعین کودیکھنا چاہے۔۔۔!
حضرت سیدتنا اُمّ رومان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا وصال ۶ سن ہجری میں ہوا۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا انتقال ہوا تو