Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
66 - 691
 کی خدمت میں آئی ہیں ان کا اپنے والدین کے ساتھ رویہ بہت اچھاہے۔آپ عظیم ہستی ہیںمیں چاہتاہوں آج یہ یہاں سے محروم نہ جائیں لہٰذا آپ ان کے لئے دعا فرمائیں اللہ تعالٰی  انہیں دولت ایمان سے سرفراز فرمائے،مجھے یقین ہے کہ اللہ  تعالٰی آپ کے وسیلہ سے انہیں دوزخ کی آگ سے محفوظ فرمائے گا۔‘‘آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کے لیے دعا فرمائی اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔چنانچہ وہ مشرف بہ اسلام ہو گئیں۔   (تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۴۹،البدایۃ والنھایۃ،تسمیۃ ابی بکر وطلحۃ، ج۲، ص۳۶۹)
تصدیق کے سبب بخش دیاگیا
حضرتِ سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی والدۂ ماجدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے ایمان لانے کاتفصیلی واقعہ کچھ یوں ہےکہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہرات کے ابتدائی حصہ میں اپنی والدۂ محترمہ کے سا تھ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوئے، نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرتِ سیدنا صد یق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے کچھ گفتگو فرمائی، رات طویل ہوگئی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی والدۂ ماجدہ سو گئیں۔ جب انہوں نے لوٹنے کا ارا دہ کیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرتِ سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے استفسار فرمایا:’’تمہاراکیا حال ہے؟‘‘عرض کی: ’’یارسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں توخیریت سے ہوں مگر یہ میری ماں ہے، اس کے بغیر میرا چارہ نہیں، اے تمام لوگوں کے سردار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ ان کے لئے دعا فرمائیے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کو اسلام کی توفیق عطا فرما دے۔‘‘ پس آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے ہاتھوں کوکشا دہ کیا، ہونٹوں سے دھیمی دھیمی آواز نکالی اور ان کے لئے دعا کی تو وہاں موجود ایک صحابی رسول کا کہنا ہے کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ہم نے حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی والدۂ ماجدہ کو حالت نیند میں کلمۂ شہادت پڑھتے سنا۔‘‘ اور جب وہ بیدا ر ہوئیں توبلند آوازسے پڑھا: ’’اَشْھَدُاَن لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ یعنی میں گو ا ہی دیتی ہوں کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کو ئی معبو د نہیں اور (حضرت سیدنا)محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے بندے