Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
65 - 691
آپ کی والدہ کا تعارف
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی والدہ محترمہ کا نام سلمى بنت صخر بن عامر بن كعب بن سعد بن تيم بن مرہ اور کنیت ’’اُمُّ الْخَیْر‘‘ہے۔ یہ لفظاًاورمعنیً دونوں طرح اُمّ الخیریعنی بھلائی کی اصل ہی ہیں اورحضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کےوالد کے چچا کی بیٹی ہیں۔ ابتدائے اسلام میں ہی خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بیعت کرکے مشرف بہ اسلام ہوگئیں تھیں، پھرمدینہ منورہ میں ہی اسلام پردنیا فانی سے تشریف لے گئیں،آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا انتقال حضرت سیدناابوقحافہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے پہلے جمادی الثانی سن ۱۳ ہجری میں ہوا۔   (تاریخ مدینۃ دمشق،  ج۳۰،ص۱۴، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،کتاب النساء، وفصل فیمن عرف بالکنیۃ، حرف الخاء المعجمۃ،  ج۸، ص۳۸۶، الریاض النضرۃ، ج۱، ص۷۳)
آپ کی والدہ کا قبول اسلام
آغاز اسلام میں جب اللہ عَزَّ وَجَلَّکےمحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ کی تعداد اڑتیس ہوگئی تو حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنےحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اعلان و اظہارِ اسلام کے لئے اجازت طلب کی،اجازت ملنے پرحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کوخطبہ اسلام دینےکے لیے کھڑے ہوئے اور وہاں رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی تشریف فرما تھے۔ مشرکین مکہ نے جب مسلمانوں کو کھلم کھلادعوتِ اسلام دیتے دیکھاتو ان کا خون کھول اٹھا اور وہ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ودیگر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نےمسلمانوں کومارنا پیٹناشروع کردیا، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو بھی نہایت ہی بری طرح تکالیف پہنچائیں کہ آپ کا چہرہ پہچانا نہیں جاتا تھا،نیزآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبے ہوش ہوگئے۔آپ کی والدہ اوراُمّ جمیل بنت خطاب یہ دونوں آپ کو سہارا دے کر سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں لے گئیں۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا :’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میری والدہ آپ