آپ کے والد کا قبولِ اسلام
حضرت سیدتنااسماء بنت ابی بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ جب نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفتح مکہ سے قبل شہر کے باہر وادی ذی طویٰ میں ٹھرے ہوئے تھے، حضرت سیدنا ابوقحافہ عثمان بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سے کہا:’’اے بیٹی! مجھے جبل ابوقبیس پر لے چلو۔‘‘ چھوٹی بچی سے اس لیے کہاکہ اس وقت آپ کی نظرتقریبا زائل ہو چکی تھی،دونوں پہاڑ پرچڑھے تو آپ نےپوچھا:’’بیٹی! تمہیں کیا نظر آرہا ہے؟‘‘ بچی نےکہا:’’بابا!شہر کے باہر ایک قافلہ ہے۔‘‘بولے:’’کیا یہ کوئی لشکرہے؟‘‘بچی بولی:’’ایک آدمی نظر آرہا ہے جوقافلہ کےآگےپیچھےآجارہا ہے۔‘‘ کہنے لگے: ’’بیٹی یہ لشکرکاسپہ سالار ہے۔‘‘بچی کہنے لگی:’’بابا!اب قافلہ منتشر ہوگیا ہے۔‘‘ بولے: ’’بیٹی مجھے جلدی سےگھر لے چلو۔‘‘ بچی آپ کو لے کر گھر کی طرف چل دی۔ نبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشہر میں فاتحانہ داخل ہوئے اور مسجد حرام میں تشریف فرما ہوئے تو حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے والدحضرت سیدناابوقحافہ عثمان بن عامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئےتو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:
’’هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِيْ بَيْتِهٖ حَتَّى أَكُوْنَ أَنَا آتِيْهِ فِيْهیعنی ابوبکر!ان کو گھر ہی میں رہنے دیتے ہم خود ان کے پاس جاتے۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:
’’يَارَسُوْلَ اللہِ! هُوَ أَحَقُّ اَنْ يَمْشِي إِلَيْكَ مِنْ اَنْ تَمْشِيْ أَنْتَ إِلَيْهِ یعنی یارسولاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں نہ کہ آپ ان کے پاس تشریف لے جائیں۔ ‘‘چنانچہ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے والد کو اپنے سامنے بٹھایااور ان کے سینے پر ہاتھ پھیرکر فرمایا:’’اسلام قبول کرو۔‘‘ اتنا فرمانا تھا کہ وہ بے ساختہ کلمہ پڑھنے لگے اوردائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔
(مسندامام احمد،حدیث اسماء بنت ابی بکر، الحدیث:۲۷۰۲۳، ج۱۰، ص۲۷۴)